12 to 17 Rabi Ul Awal Days of Muslim Unity (Imam Khomenie)

Picture
     حضرت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کایوم ولادت  

السلام علیک ایہا النبی و رحمۃ اللہ و برکاتہ
 

  عزیزان گرامی ! وحی الہی کےآخری سفیرخاتم الانبیاء ،فخرموجودات ،سرور کائنات، حضرت محمّد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے ظہور پرنور کے یہ سعادت آفرین ایام آپ سب کو مبارک ہوں ۔ یہ اس کی آمد کے ایام ہیں کہ جس کا نام عالم بشریت کی پیشانی پر درخشاں ہے اور جس کے وجود کی عطربیزہواؤں سے آج بھی مشام ہستی مطہر و معطر ہے ۔                        
محمّد  عالم    تخلیق  کا  وہ  سرّ  اکبر ہے              قدم کی شان رکھتاہے  یہ  وہ  امکان  داور  ہے 
وہاں مداح خالق اور یہاں  ممدوح  داور  ہے              زمین پر جو محمد ہے  وہی احمد  فلک  پر ہے
 
ہے تاج فتح سر پر   جوشن    یس   با‌زو  پر               جبیں پر نور کندہ دوش  پر طہ  کی  چادر  ہے 
سراج نور قرآں میں جمال طور  عترت میں                  بشرصورت ملائک میں تو امت میں پیمبر ہے    

     ہم خدا کے رسول حضرت محمّد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیرو ہیں ، ہم اپنے تمام برادران اسلام بلکہ پوری دنیائے بشریت کو لباس نور سے مزین ، مادیت کے سایے سے بھی آزاد ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ورود مسعود کی مبارک باد پیش کرتے ہیں کیونکہ تمام مذاہب میں ان کے آنے کی بشارت دی گئی ہے اور ان پر ہی خدا کی نبوت الہی اور پیغام رسانی کا اختتام ہواہے۔ سبھی کو دور جہالت سے رہائی اور بشریت کی فلاح و نجابت کی فکر اور آرزو تھی اور ہر ایک ظلم و ستم کی برائیوں سے آزادی اور آدمیت کے کمال و ارتقاء کم متمنی اور خواہشمند تھا ۔ امن و سلامتی سے معمور دنیا کی تعمیر کے لئے خدا کے آخری مبشر و نذیرکی دنیا راہ تک رہی تھی اور وہ نور ہدایت سترہ ربیع الاول سن تیس عام الفیل کو آمنہ کے گھر میں آگیا ۔  چنانچہ نبی اکرم کی مادر گرامی جناب آمنہ کی زبانی روایت ہے کہ " جب میرا بیٹا دنیا میں آیا میں نے ایک غیبی آواز سنی  ، منادی کہہ رہاتھا : مشرق سے مغرب تک گھوم کر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مثل تلاش کرو ، ان کے جیسا کون ہوسکتاہے ، تمام انبیاء کے صفات ہم نے ان کو عطا کردئے ہیں ، آدم(ع) کی طرح صفا و پاکیزگی ، نوح(ع) کی طرح نرمی و سادگی، ابراہیم علیہ السلام کی طرح حلت و محبت ، اسمعیل (‏ع) کی طرح رضا و خوشنودی ،  یوسف (ع) کی طرح حسن و زیبائی اور عیسی علیہ السلام کی طرح کرامت و بزرگواری ، سب کچھ ان میں موجود ہے ۔ "ہم اسی نبی کے پیرو ، اپنے دین اسلام پر افتخار کرنے والے مسلمان ہیں اورخوشی کے ان ایام میں آپ تمام سامعین محترم کی خدمت میں رشتۂ انسانیت کی بنیاد پر محبت و دوستی کا پیغام دیتے ہیں ۔ یہ ایام دنیا میں اس عظیم انسان کے ورود مسعود کے ایام ہیں کہ جس کا نام ہی محمّد ہے ، جس کی خود خدا نے بے پناہ مدح کی ہے اور ہم جتنی بھی تعریف کریں کم ہے ۔ خدا کا یہ وہ رسول ہے کہ جس کو خدا نے تمام اخلاق حمیدہ سے مخصوص کردیا ، جو بندوں کے حق میں اس قدر لطیف و مہربان تھا کہ ایک ہی نگاہ میں دلوں سے کینہ و دشمنی کے سیاہ بادل چھٹ جاتے تھے ۔ جس نے ہر ایک کی طرف محبت و دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور ایک دنیا کو اپنا گرویدہ بنالیا ۔ تاریخ کے اوراق الٹئے تو آپ کو نظر آئے گا کہ ایک یہودی عورت کینہ و نفرت سے چور بڑھاپے کی ضد کے ساتھ جب بھی آپ کو گھر کے قریب سے گزرتے دیکھتی چھت سے آپ کے سر پر کوڑا کرکٹ پھینک دیا کرتی تھی ، نہ آپ اس پر غصہ کرتے نہ بگڑتے بولتے اور نہ ہی اپنی راہ ترک کرتے تھے ، گویا یہ روزانہ کا معمول بن چکاتھا آپ یہودن کے گھر کے قریب سے گزرتے اور وہ آپ پر کوڑا پھینک دیتی لیکن ایک دن جب آپ ادھر سے گزرتے تو کسی نے کوڑا نہیں پھینکا ۔ آپ کو حیرت ہوئی اور آپ نے لوگوں سے پوچھا " آج میری مہربان کا کچھ پتہ نہیں ہے ؟" معلوم ہوا کہ وہ مریض ہے یہ سنتے ہی آپ نے بوڑھی یہودن کےگھر      دق الباب کیا ، دروازہ کھلا اور بڑھیا نے آپ کو سامنے کھڑا دیکھ کر گھبرا کے پوچھا ، تم اب آئے ہو مجھ سے انتقام لینےکہ جب میں مری‍ض ہوں ؟ آپ نے اس کے جواب میں مسکراتے ہوئے شفقت و ہمدردی سے معمور لہجے میں فرمایا :  " نہیں ، میں تو یہ سنکر کہ تم مریض ہو تمہاری عیادت کے لئے آیاہوں " یہ تھا ہمارے نبی کا حسن اخلاق اسی لئے خدا نے اپنے اس نبی کے لئے فرمایاہے  : 

    " ہم نے آپ کو خلق عظیم پر فائز کیاہے  "آج پھر دنیا ئے بشریت ظلم و نا انصافی کے گہرے زخموں سے چور کراہ رہی ہے ، اگرچہ اس نے بڑی تیزی سے علم و دانش کی عظیم راہیں عبور کرلی ہیں لیکن اب بھی آدمیت اخلاق اور انسانی وجدان کے بیچ راہ میں حیران و سرگردان کھڑی ہے ۔ اسے ایک   ایسے" درخشاں نور " کی ضرورت ہے جو اس کی حیات کو گرمی اور تازگی عطا کردے نور محمدی کا آخری جلوہ کو ایک دنیا سراپا انتظار ہے ۔ خاص طور پر ان دنوں ہر طرف  " محمّد(ص) کی آمد " کا نور پھیلا ہوا ہے ۔ یقینا" ان کی معرفت اور عشق و اطاعت دلوں سے دنیوی آلودگیوں کی سیاہی دور کردے گی اور محبت و سچائی کے تحفے نچھاور کرے گی ۔ اگر تمام انسان ان کی رہنمائیوں کے پرتو میں زندگی گزارنے کا عہد کریں تو نجات و رستگاری قدم چومے گی ۔ خداوند عالم نے بھی اس طرح کے انسانوں پر درود بھیجاہے اپنے پیغمبر (ص) کو خطاب کرکے وہ فرما چکاہے


Shaheed Dr. Muhammad Ali Naqvi 
(7 March Yom-e-Shahadat)

Picture
Shaheed Dr. Muhammad Ali Naqvi was born on 28 September 1952 at Ali Raza Abad, then in suburbs of Lahore. Besides his father, Maulana Syed Amir Hussain Naqvi, who made the conscious decision of leaving government service & proceeding for religious educatiion to Najaf, he was blessed to have Mohsin-eMillat Allama Syed Safdar Hussain Najafi as a paternal uncle.

Dr. Naqvi's early years were spent in the pious atmosphere of Najaf and Karbala, perhaps a reason why he vehemently responded to "Hal min Nasirin ..." throughout his later life.

He then lived in East Africa where his father was a preacher. He did his Senior Cambridge (O Levels) in 1969 from Kampala (Uganda). He was an exemplary scout and an excellent debater during his school days.

He then came to Pakistan to do his F Sc. from Government College, Lahore. It was here that he founded the Young Shia Students Association. In 1972 he was admitted to King Edward Medical College, Lahore.

In 1972 he, along with some other students from other fields of study, was instrumental in converting an already existing Shia Students Association (SSA) into the now well-known Imamia Students Organization (ISO).

He was again among the founder members of Tehrik-e Nifaz-e Fiqah-e Jafria under the leadership of Mufti Jaffer Hussain on 13 April 1979. Later, he remained the most loyal follower of Shaheed Quaid Arif al-Hussaini and carried forward his mission almost single-handedly after the Shahed Quaid left us on 5 August 1988.

Dr. Naqvi's wish for matyrdom was accepted by Allah on 7 March 1995 when he, along with his loyal body guard Taqi Haider, were martyred in an ambush at Chowk Yateem Khan, Multan Road, Lahore.

Let us resolve to repay the debt of his shahadat by trying to follow the path of this great martyr in service of Islam and Pakistan.
Bookmark and Share